مرد عورت کو کیسے بے بس کرتا ہے؟
نمو دوپٹے کے پلو سے ہونٹوں کو چھپائے جھاڑو لگا رہی تھی جب اماں نے آ کر پکڑ لیا اور ہونٹوں سے دوپٹہ ہٹا کر رگڑ کر لپ سٹک صاف کی.موئی تجھے کتنی بار کہا ہے کہ کنواری لڑکیاں میک اپ نہیں کرتیں.شادی کے بعد کرنا،۔جاری ہے۔
اپنے میاں کو دکھانا، اب کرنے کا فائدہ.اماں تو مجھے کبھی سجنے سنورنے نہیں دیتی، وہ بنگلے والی باجی کی بیٹی روز اتنا تیار ہو کر کالج جاتی ہے..فرشتے لعنت بھیجتے ہیں جو عورت سج سنور کے غیر محرم کو دکھائے.اماں تو نے میرا ہر ارمان مار دیا، شادی سے پہلی والی زندگی بیکار ہوتی ہے کیا.اگر روز روز میک اپ کرے گی تو شادی والے دن روپ نہیں چڑھنا.اماں مجھے میک اپ کا بہت شوق ہے، تو ایسا کر، میری شادی ہی کروا دے، تاکہ میں روز جی بھر کے میک اپ کیا کروں، کوئی روکنے والا نہ ہو، روز نیا جوڑا پہنوں اور دل کے سارے ارمان پورے کروں.چل ہٹ پرے موئی! کنواری لڑکیاں اپنے منہ سے بر نہیں مانگتیں، بے شرم کہیں کی.لو اماں! اب اس پر بھی پابندی ہے، میں لگانے لگی ہوں لپ سٹک، کچھ نہیں ہوتا.کان کھول کر سن لے نمو! اگر آئندہ تو نے سرخی کو ہاتھ بھی لگایا تو تیری ہڈیاں توڑدوں گی.نمو دانت پیس کر رہ گئی.اس دن کے بعد نمو نے پھر کبھی اماں سے چوری بھی میک اپ نہیں کیا، اس نے خیالوں میں اپنی دنیا بسا لی تھی، وہ اس دن کو سوچ کر خوش ہوتی تھی جب اس کی شادی ہو گی، وہ روز میک اپ کیا کرے گی اور سجنے سنورنے پر کوئی پابندی نہیں ہو گی..ہائے اللہ کتنا مزہ آئے گا نا، وہ من ہی من میں مسکراتی.وقت گزرتے پتہ نہیں چلتا،۔جاری ہے۔
وہ لمحہ بھی آ ہی گیا تھا۔جس کے نمو نے بڑے خواب دیکھے تھے، آج اماں نے اسے اپنے ہاتھوں سے سجایا تھا.کاشف اماں کا کوئی دور پرے کا رشتہ دار تھا، چار بہنوں کا اکلوتا بھائی، ان کے مالی حالات اتنے اچھے نہیں تھے، اماں کے پاس کون سے ڈالر پڑے تھے، سادگی سے نکاح ہوا تھا، چار جوڑوں میں نمو بیاہ دی گئی تھی، اماں نے شکر کا کلمہ پڑا تھا خۃ بیٹی کا فرض ادا ہوا.نمو نقلی مسہری میں بیٹھی ہوئی سوچ رہی تھی بنگلے والی باجی کی بیٹی کی مسہری تو اصلی گلاب کے پھولوں سے بنی تھی، کتنی مہک تھی فضا میں، اسے اپنی کم مائیگی کا احساس ہو رہا تھا، لیکن ساتھ ہی جب اس نے اپنا عکس آئینے میں دیکھا تو سب بھول گئی.ساری خوشیاں پیسے سے ہی نہیں جڑی ہوتیں، میں اپنے وجود سے اس گھر کو مہکا دوں گی، سب میں محبتیں بانٹوں گی، وہ مستقبل کی پلاننگ کر رہی تھی.چلو یہاں یہ تو سکون ہے کہ لپ سٹک لگا کر منہ نہیں چھپانا پڑے گا، وہ کھلکھلا کر ہنس رہی تھی.جب دروازہ کھلنے کی آواز آئی تھیاس کی دھڑکنوں میں اک شور برپا ہوا تھا..یہ کیا سر جھکائے بیٹھی ہو، جاہل لڑکی! سلام کرنا نہیں سکھایا کسی نے..میاں نے اندر آتے ہی اس کی سماعتوں پر بم گرائے، اس نے ڈرتے ہوئے نگاہیں اٹھا کر دیکھا تو وہ بڑے رعب سے اس کے سر پر کھڑا تھاالسلام علیکم… بڑی مشکل سے اس سے لفظ ادا ہوئے.ٹھیک ہے ٹھیک ہے، یہ کیا رنگ و روغن لگایا ہوا ہے؟ اٹھو منہ دھو کر آؤ، مجھے یہ چونچلے اچھے نہیں لگتے، عورت کا کام گھر سنبھالنا ہوتا ہے، رنگ و روغن منہ پر مل کر بیٹھنا نہیں..وہ ایک سے بڑھ کر ایک حکم سنا رہا تھا،۔جاری ہے۔
۔اس نے یہ پوچھنا گوارا ہی نہیں کیا تھا کہ اسے کیا پسند ہے؟وہ چہرہ دھوتے ہوئے مسلسل رو رہی تھی، ساری آنسو پانی میں ہی بہہ گئے تھے.اس کی زندگی جہنم بننے والی ہے، اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھاسارا دن ساس نندوں کی خدمت کرتی اور رات کو شوہر کا حکم نامہ تیار ہوتا،میری ماں بہنوں کو تم سے کوئی شکایت نہیں ہونی چاہیے ورنہ تم بھی یہاں نہیں رہو گی.اس نے اپنے سارے شوق مار دیے تھے، سارا دن گھر کے کام کرتی، ایک پل بیٹھنا نصیب نہیں ہوتا تھا،پھر بھی ساس پورا دن شور مچائے رکھتی کہ ہم جاہل عورت لے آئے ہیں جسے کام کا سلیقہ نہیں ہے.سارا دن وہ ساس کی جاہل جاہل کی گردان سنتی تو رات کو شوہر کا جاہل نامہ شروع ہو جاتا.اماں کو وہ چاہ کر بھی کچھ بتا نہیں پاتی تھی کہ وہ پہلے ہی دل کی مریض ہے، اب ہو بھی کیا سکتا تھا، وہ صبر کر رہی تھی، لیکن کبھی کبھی آنسو چھلک پڑتے تھے، وہ سوچتی کاش بیٹیوں کو اپنے گھر دل کے ارمان پورے کرنے سے نہ روکا جائے، کیا پتہ اگلے گھر کیسی صورت حال ہو؟اسے یہ سکون تھا کہ کاشف ہاتھ نہیں اٹھاتا تھا،۔جاری ہے۔
ساس بھی منہ زبانی ہی کام چلا لیا کرتی تھی،سو دن گزر رہے تھے، لیکن راوی بھی آخر کب تک چین لکھے؟ایک دن نمو نندوں کے ساتھ کھیتوں کی طرف چہل قدمی کرنے کے لیے گئی، ایک آدمی گنے کاٹ رہا تھا، اس نے اس سےگنا مانگ لیا، اس نے کہا کہ باجی جتنے مرضی لے لیں کوئی بات نہیں. اس کی بدقسمتی کہ نند سے پوچھ لیا کہ یہ آدمی کون ہے، کتنا پیارا ہے؟چھوٹی نند سب کے آگے بھاگتی ہوئی گھر آئی تھی، آتے ہی بھائی کو مرچ مسالہ لگا کر ساری بات بتائی، اور اس کی غیرت جگا دی،وہ دروازے کے پیچھے کھڑا ہو گیا تھا، جیسے ہی نمو گھر میں داخل ہوئی، اس کے ہاتھ سے گنا لے کر اسی کے ساتھ اسے پیٹنا شروع کر دیا.وہ امید سے تھی، حمل تو ضائع ہوا ہی، ساتھ میں عمر بھر کا روگ لگ گیا تھا، اب وہ کبھی ماں نہیں بن سکتی تھی.تھوڑے دن بعد ہی اسے طلاق دے کر گھر سے نکال دیا گیا تھا. کاشف کی اماں نیا رشتہ ڈھونڈ رہی تھی، وجہ بتا رہی تھی کہ پہلی بیوی بانجھ تھی، وارث نہیں دے سکتی تھی، اس لیے طلاق دی ہے، سننے والی عورتیں بھی اس کی بھرپور حمایت کر رہی تھیں، عورت عورت کی دشمن ہے،۔جاری ہے۔
ایک بار پھر ثابت ہو رہا تھا.ایک بےگناہ عورت سب کی نظروں میں مجرم بن گئی تھی، اس کا قصور بس یہ تھا کہ وہ اپنے خواب مار کر سمجھوتہ کر رہی تھی کہ طلاق یافتہ عورت کی اس معاشرے میں کوئی قدر نہیں، ذلیل اس نے ہی ہونا تھا کہ گھر نہیں بسا پائی.اور مرد قصور وار ہوتے ہوئے بھی پارسا بن گیا تھا.اس بار بھی بازی عورت ہی ہاری تھی.
The post مرد عورت کو کیسے بے بس کرتا ہے؟ appeared first on Urdu Khabrain.
from Urdu Khabrain http://ift.tt/2AgOvMf
via Urdu Khabrain
Comments
Post a Comment