Posts

مزید 2 ارکان پنجاب اسمبلی پی ٹی آئی کے قافلے میں شامل

Image
پی پی 126 سے مولانا معاویہ اعظم اور پی پی 125 نے کامیاب ہونے والے فیصل حیات نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیارکی۔ ۔ فوٹو:فائل لاہور:  نومنتخب رکن پنجاب اسمبلی معاویہ اعظم اور فیصل حیات جبوانہ تحریک انصاف میں شامل ہوگئے ہیں۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق مزید 2 نومنتخب رکن صوبائی اسمبلی تحریک انصاف میں شامل ہوگئے ہیں۔ جھنگ کے حلقہ پی پی 126 سے بحیثیت آزاد امیدوار کامیاب ہونے والے مولانا معاویہ اعظم اور پی پی 125 سے کامیاب ہونے والے فیصل حیات جبوانہ نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے بنی گالہ میں ملاقات کی اور قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے پی ٹی آئی میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان کیا۔ اس خبرکوبھی پڑھیں:   پی ٹی آئی کا مطلوبہ نشستیں حاصل کرنے کا اعلان The post مزید 2 ارکان پنجاب اسمبلی پی ٹی آئی کے قافلے میں شامل appeared first on Urdu Khabrain . from Urdu Khabrain https://ift.tt/2KeinfM via Urdu Khabrain

جعلی خبروں اور بیہودہ زبان کی روک تھام کیلئے ٹوئٹر کالج پروفیسر بھرتی کرے گا

Image
ٹوئٹر نفرت انگیز پوسٹس پر نظر رکھنے کےلیے پروفیسرز سے رہنمائی لے رہا ہے۔ (فوٹو: فائل) کیلیفورنیا: سوشل میڈیا کی غیرمعمولی مقبولیت کے بعد ایک جانب تو یہ جعلی خبروں اور افواہوں کا مرکز بنتا جارہا ہے تو دوسری جانب عوام نے دل کی بھڑاس نکالنے کےلیے اسے نفرت انگیز زبان سے بھر دیا ہے۔ اسی بنا پر ٹوئٹر نے اعلیٰ تعلیم یافتہ پروفیسرز سے اس کا حل پیش کرنے کی درخواست کی ہے۔ ٹویٹر نے جامعات کے اساتذہ اور پروفیسروں سے کہا ہے کہ وہ پورے ٹویٹر کا ڈیجیٹل آڈٹ کرکے بتائیں کہ آخر غیرمہذب زبان، غلط خبریں اور خود ساختہ کارستانیاں کہاں سے پھوٹ رہی ہیں۔ اس کےلیے ٹویٹر نے پروفیسرز سے قابلِ عمل منصوبوں کی تجاویز پیش کرنے کا بھی کہا ہے۔ اب تک مختلف ماہرین نے ٹویٹر کو 230 عملی منصوبے یا پروپوزل پیش کیے ہیں جن میں سے نیویارک کی سیراکیوس یونیورسٹی کے دو اور اٹلی کی بوکونی یونیورسٹی کے دو پروفیسروں کے پروپوزل قبول کیے گئے ہیں۔ یہ تمام حضرات ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ماہرین بھی ہیں۔ ان جامعات کے تین پروفیسر لائیڈن یونیورسٹی، ہالینڈ کے پروفیسر ریبیکا ٹرامبے کی نگرانی میں کام کریں گے جو سیاست اور سوشل...

سیرا لیون سے ایبولا وائرس کی نئی قسم دریافت

Image
دس برس بعد اب خاص چمگادڑوں میں پہلی مرتبہ تبدیل شدہ ایبولا وائرس دریافت ہوا ہے۔ (فوٹو: فائل) سیرالیون: افریقا میں 10 برس قبل ایبولا وائرس کی وبا پھوٹنے کے بعد ماہرین نے اب خبردار کیا ہے کہ اس وائرس کی تبدیل شدہ شکل سیرا لیون کی چمگادڑوں میں دریافت ہوئی ہے لیکن ماہرین نہیں جانتے کہ ایبولا کی یہ نئی قسم کتنی خطرناک ہے؟ اگرچہ ایبولا وائرس کی نئی قسم پر ابھی تحقیق کی ضرورت ہے لیکن اس سے ایبولا کے حملے اور پھیلاؤ کو سمجھنےمیں بہت مدد ملے گی۔ قبل ازیں 2008 میں بنڈی بگیو ایبولا وائرس دریافت ہوا تھا جو اس نسل کا نیا وائرس بھی تھا اور کہا جاتا ہے کہ 2013 میں پھوٹنے والی وبا کی پشت پر بھی یہی وائرس تھا جس نے مغربی افریقا میں 11 ہزار افراد کو ہلاک کیا تھا لیکن ان اموات میں 1976 کے زائر ایبولا وائرس کا بھی اہم کردار تھا۔ نیا وائرس پی آر ای ڈی آئی سی ٹی پروگرام پر کام کرنے والے سائنس دانوں نے دریافت کیا ہے جس کے نگراں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ڈیوس کے ماہرین ہیں اور وہ جانوروں سے انسانوں تک منتقل ہونے والے امراض اور وائرس پر تحقیق کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ ماہرین نے ایبولا کی نئی قسم ...

شاہ رخ خان سے موازنہ کرنے پر اکشے کمار کا صحافیوں کو کرارا جواب

Image
میری فلم’’گولڈ‘‘اور ’’چک دےا نڈیا‘‘کی کہانی مختلف ہے۔اکشے کمار فوٹو:فائل ممبئی: بالی ووڈ کے ایکشن ہیرو اکشے کمار نے شاہ رخ خان سے موازنہ کیے جانے پر صحافیوں کو کرارا جواب دے دیا۔ اداکار اکشے کمار ان دنوں فلم ’’گولڈ‘‘ کی شوٹنگ میں مصروف ہیں جس میں وہ ہاکی کوچ تپن داس کا کردار نبھارہے ہیں جو ایک بکھری ہوئی ہاکی ٹیم کو اکٹھا کرکے اسے اولمپک تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کرتا ہےاور اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ فلم کی کہانی اوراکشے کمار کا کردار کافی حد تک  شاہ رخ خان کی کامیاب فلم ’’چک دےانڈیا‘‘ سے ملتا ہے۔ ’’چک دےانڈیا‘‘میں بھی شاہ رخ خان نے ایک ہاکی کوچ کا کردار نبھایاتھا جو اپنی ٹیم کو ورلڈ کپ جتواتا ہے۔ ایک انٹرویو کے دوران جب اکشے کمار سے فلم ’’گولڈ‘‘ اور’’چک دےا نڈیا‘‘کے درمیان کہانی کی مماثلت کے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں صرف اچھی فلم کرنے پر یقین رکھتا ہوں، ’’گولڈ‘‘ اور’’چک دےانڈیا‘‘کی کہانی مختلف ہے۔ اکشے نے کہا میری فلم اور ’’چک دےانڈیا‘‘ کا موازنہ کرنا بیکار ہےلہٰذا دونوں نے درمیان مقابلہ نہ کریں۔ اکشے کمار نے فلم میں اپن...

پاک فوج نے بیافو گلیشیئر کی چوٹی پر پھنسے روسی کوہ پیما کو بچالیا

Image
روسی کوہ پیما لیٹوک ٹاپ پر 25 جولائی سے پھنسا ہوا تھا اور تین دن سے سپلائی بند تھی، آئی ایس پی آر فوٹو:فائل اسلام آباد: پاک فوج نے امدادی کارروائی کرتے ہوئے بیافو گلیشیئر کی چوٹی پر تین دن سے پھنسے روسی کوہ پیما کو بچالیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی جوانوں نے گلگت بلتستان میں بیافو گلیشیئر کی لیٹوک چوٹی پر پھنسے روسی کوہ پیما کو بچالیا۔ روسی کوہ پیما لیٹوک ٹاپ پر 25 جولائی سے پھنسا ہوا تھا اور تین دن سے سپلائی بند تھی۔ چار دن میں سات کوششوں کے باوجود امدادی ٹیموں کو کوہ پیما تک رسائی حاصل نہیں ہو سکی تھی۔ تاہم پھر آرمی ایوی ایشن کے پائلٹس نے 20 ہزار 650 فٹ بلندی پر پھنسے کوہ پیما الیگزینڈر گوکوف کو تلاش کرلیا اور طبی امداد کی فراہمی کیلئے سی ایم ایچ اسکردو منتقل کر دیا گیا ہے۔ آرمی ہیلی کاپٹر کے ذریعے خراب موسم میں اتنی بلندی پر یہ پہلا امدادی آپریشن تھا۔ The post پاک فوج نے بیافو گلیشیئر کی چوٹی پر پھنسے روسی کوہ پیما کو بچالیا appeared first on Urdu Khabrain . from Urdu Khabrain https://ift.tt/2M8mBrf via Urdu Khabrain

تخت پشاور کس کا؟ پی ٹی آئی قیادت وزیراعلیٰ کیلیے حتمی نام کا اعلان نہ کرسکی

Image
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے نام پر مشاورت کے لیے آخری راؤنڈ آج ہونے کا امکان ہے فوٹو: فائل پشاور:  پاکستان تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے لیے حتمی نام کا اعلان نہ کرسکی۔ تحریک انصاف کو خیبرپختونخوا میں دوتہائی اکثریت تو حاصل ہوگئی ہے لیکن وزارت اعلیٰ کے نام کا اعلان نہ ہوسکا، پی ٹی آئی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ کے نام پر مشاورت کی جارہی ہے، وزارت اعلیٰ کی دوڑ میں سابق وزیراعلیٰ پرویزخٹک، اسپیکر اسد قیصر، سابق وزیرتعلیم عاطف خان، تیمور سلیم جھگڑا، شوکت یوسفزئی اور شاہ فرمان شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مشاورتی اجلاسوں کے باجود کسی نام پر اتفاق نہ ہوسکا، ناموں پر اختلاف کے باعث ڈھائی ڈھائی سال کے لیے وزیراعلیٰ لانے کی بھی تجویز دی گئی ہے وزیراعلیٰ کی مشاورت کے لیے آخری راؤنڈ آج ہونے کا امکان ہے۔ The post تخت پشاور کس کا؟ پی ٹی آئی قیادت وزیراعلیٰ کیلیے حتمی نام کا اعلان نہ کرسکی appeared first on Urdu Khabrain . from Urdu Khabrain https://ift.tt/2LOrbhj via Urdu Khabrain

ہے تو دریائے سندھ لیکن….

Image
کنول خان دُنیا کے طویل ترین دریاؤں میں شمار ہونے والا دریائے سندھ، ایک زمانے میں طویل رقبے کو سیراب کرتا تھا۔ آج کا دریائے سندھ اپنے اصل حجم کا دس فی صد بھی نہیں رہا ۔دریا میں پانی کم ہوجانے کی بے شمار وجوہات میں سے ، ایک اس پر بننے والے ڈیم اور زراعت کے لیےپانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال بھی ہے۔ جنگلات کی تیز رفتار کٹائی، صنعتی آلودگی اور زمینی درجہء حرارت میں اضافہ انڈس ڈیلٹا کے علاقے میں نباتات اور حیوانات کے ساتھ ساتھ وہاں بسنے والے انسانوں کی زندگیوں پر بھی تباہ کن اثرات مرتب کر رہا ہے۔تبت کے پہاڑوں میں سے نکلنے والا یہ دریا لداخ سے ہوتا ہوا پاکستان میں داخل ہوتا ہے ، پشاور اور راولپنڈی کے درمیان سے ہو کر گزرتا ہوا صوبۂ سندھ میں بحیرہ ٔ عرب میں جا کر گرتا ہے، لیکن اب اس دریا کے آخری حصے میں پانی کی مقدار اتنی کم ہو چکی ہے کہ سمندر کا پانی اس میں آنا شروع ہو گیا ہے۔دریا میں پانی کم ہونے سے زیر زمین پانی کی سطح بھی بہت نیچے چلی گئی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ گہرے کنویں کھودنا پڑ رہے ہیں۔زمین میں نمک کی زیادتی کی وجہ سے پانی پینے کے اور زمین کاشت کے قابل نہیں رہی۔ زمینی پا...